نئی دہلی5 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) منی لانڈرنگ کیس میں لالو پرساد یادو کی بیٹی میسا بھارتی اور داماد شیلیش یادو کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے دو لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے پر ضمانت دے دی ہے۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے دونوں کو مشروط ضمانت دی ہے۔ کورٹ نے کہا ہے کہ وہ بغیر عدالت کی اجازت کے ملک چھوڑ کر نہیں جا سکتے ہیں۔ واضح ہو کہ یہ معاملہ کمپنی مشیل پیکرس اینڈ پرنٹر پرائیویٹ کے نام پر دہلی میں ایک فارم ہاؤس کی خریداری سے منسلک ہے۔ اس معاملہ میں ڈائریکٹوریٹ میسا بھارتی سے پوچھ گچھ کر چکا ہے۔ وہیں میسا بھارتی کا کہنا ہے کہ منی لاڈرگ کے لئے تحقیقات دائرے میں آئی کمپنی کو ان کے شوہر اور ایک سی اے چلا رہا تھا۔ وہیں ای ڈی کا کہنا ہے کہ مکھوٹا کمپنیوں کے ذریعے 1.2 کروڑ روپے کی منی لاڈرگ کے سازش میں فعال طور پر شامل تھا۔ میسابھارتی آر جے ڈی صدر اور بہار کے سابق وزیر اعلی لالو یادو کی بیٹی ہے۔ڈائریکٹوریٹ نے اس جوڑے کے خلاف چارج شیٹ دسمبر میں داخل کیا تھا، اس میں کہا گیا ہے کہ جرائم سے جمع کی گئی دولت میں ان دونوں کا تعلق بھی متحرک رہا ہے ؛لہٰذا منی لانڈرگ جرم کے مجرم ہیں۔ دہلی کی ایک عدالت نے الزام خط پر نوٹس لیتے ہوئے استغاثہ شکایت کو منی لانڈرگ انسداد قانون کے تحت سمجھا ہے اور اس جوڑے کو اس معاملے میں ملزم کے طور پر سمن جاری کیا ہے۔ چارج شیٹ کے مطابق میسا بھارتی نے ایک مختصر جواب دیا اور ایجنسی سے کہا ہے کہ متعلقہ فرم کی نگرانی شیلیش کمار دیکھ رہے تھے جبکہ کمپنی کے مالی تفصیلات کمپنی سی اے سندیپ شرما دیکھ رہا تھا، سندیپ شرما کا انتقال ہو چکا ہے۔ ایجنسی کے مطابق میسا کا کہنا ہے کہ کمپنی اور اس کے طرف سے خریدی فارم ہاؤس کے متعلقہ سوالات کا جواب تو اس کے شوہر اور متوفی سی اے ہی دے سکتے ہیں ۔